بھٹکل:27/مارچ(ایس اؤنیوز) راستوں اور بازاروں میں اپنی ضروریات کے مطابق چلنے پھرنے والی خوبصورت لڑکیوں کی تصاویر اپنےکیمرے میں قید کرتے ہوئے جنسی طورپر لذت محسوس کرنے والے آیوروید ڈاکٹر کو عوام نے سرعام پکڑ کر زبردست دھلائی کردی اور اچھا خاصا علاج کرنے کے بعد اُسے پولس کے حوالے کردیا۔ یہ واردات آج پیرکو موڈبھٹکل بائی پاس کے قریب پیش آئی ہے.
عوام نے بتایا کہ آیوروید ڈاکٹر مریضوں کےعلاج کے بجائے اپنی کار کے ذریعے لڑکیوں کا پیچھا کرتے ہوئے ان کے فوٹو لے رہے تھے، عوام نے الزام لگایا ہے کہ ڈاکٹر سڑ ک پر چلتی لڑکیوں کے سامنے بار بارالگ الگ طریقوں سے تصاویر نکال کر انہیں ہراساں کیا کرتاتھا، ایک لڑکی نے پریشان ہوکر جب اس معاملے کو گھروالوں کے سامنے پیش کیا تو عوام نے ڈاکٹر کو رنگے ہاتھوں پکڑنے کے لئے تاک میں بیٹھ گئے۔ پیر کو ڈاکٹر جب کار کے ذریعے باہر نکلا اور اپنی خصلت سے باز نہ آتے ہوئے راستے پر جارہی ایک لڑکی کا فوٹولینے کے لئے آگے بڑھا تو عوام نے ڈاکٹر کا پیچھا کرتے ہوئے موڈبھٹکل بائی پاس کے قریب کار کو روک دیا پھر موبائیل اور کیمرہ چھین لیا۔ کیمرہ میں کئی لڑکیوں کے فوٹو دیکھ کر عوام مزید برہم ہو گئے اور وہیں پر ڈاکٹر کی مہم پٹی شروع کردی، پھر اُس کو پولس کے حوالے کردیا ، خبر ملی ہے کہ پولس نے ڈاکٹر کو عوامی سطح پر شرافت برتنے اور آئندہ اس طرح کی حرکت نہ کرنے کی وارننگ دیتے ہوئے چھوڑدیا ہے۔